بوندی[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پانی کا چھوٹا قطرہ، پانی کا قطرہ، مینھ کا قطرہ (عموماً طور پر جمع مستعمل)، بوند کی تصغیر۔ "چراغ کی مختلف تجلیاں . بوندیوں اور پھواریوں یہ عکس انداز ہو رہی ہیں۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن، عبقات، ٢٢٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بوند' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ تصغیر لگانے سے 'بوندی' بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٨ء کو "کلیات انشا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پانی کا چھوٹا قطرہ، پانی کا قطرہ، مینھ کا قطرہ (عموماً طور پر جمع مستعمل)، بوند کی تصغیر۔ "چراغ کی مختلف تجلیاں . بوندیوں اور پھواریوں یہ عکس انداز ہو رہی ہیں۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن، عبقات، ٢٢٠ )

اصل لفظ: بُونْد
جنس: مؤنث